فضا میں رنگ، ستاروں میں روشنی نہ رہے – آغا شورش کاشمیری

فضا میں رنگ، ستاروں میں روشنی نہ رہے
ہمارے بعد یہ، ممکن ہے زندگی نہ رہے

خیالِ خاطرِ احباب واہمہ ٹھہرے
اِس انجمن میں کہیں رسمِ دوستی نہ رہے

فقیہہ شہر کلامِ خُدا کا تاجر ہو
خطیبِ شہر کو قرآں سے آگہی نہ رہے

قبائے صُوفی و مُلّا کا نرْخ سستا ہو
بِلال چُپ ہو، اذانوں میں دلکشی نہ رہے

نوادراتِ قلم پر ہو مُحْتسب کی نظر
مُحیط ہو شبِ تاریک، روشنی نہ رہے

اِس انجمن میں عزیزو! یہ عین ممکن ہے
ہمارے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے

آغا شورش کاشمیری

Advertisements
شائع کردہ از پسندیدہ غزلیں | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

قلم ــ ـــ ـــ آغا شورش کاشمیری

قلم

صفحۂ کاغذ پہ جب موتی لٹاتا ہے قلم
ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم

آنکھ کی جھپکی میں ہو جاتا ہے تیغِ بے پناہ
آنِ واحد میں حریفوں کو جھکاتا ہے قلم

آندھیوں کا سَیل بن کر عرصۂ پیکار میں
زلزلوں کے روپ میں محلوں کو ڈھاتا ہے قلم

دوستوں کے حق کا پشتیباں خود اپنے زور پر
دشمنوں پہ دشنہ و خنجر چلاتا ہے قلم

بندگانِ علم و فن کی خلوتوں کا آشنا
ان کے فکر و فہم کی باتیں سناتا ہے قلم

یادگاروں کا محافظ، تذکروں کا پاسباں
گمشدہ تاریخ کے اوراق لاتا ہے قلم

محفلوں میں عشق اس کے بانکپن کا خوشہ چیں
محملوں میں حُسن سے آنکھیں لڑاتا ہے قلم

شاعروں کے والہانہ زمزموں کی آبرو
دانش و حکمت کی راہوں کو سجاتا ہے قلم

اہلِ دل، اہلِ سخن، اہلِ نظر، اہلِ وفا
ان کے خدوخال کا نقشہ جماتا ہے قلم

برق بن کر ٹوٹتا ہے خرمنِ اغیار پر
دوستوں کے نام کا ڈنکا بجاتا ہے قلم

ہم نے اسکی معرفت دیکھا ہے عرش و فرش کو
آسمانوں کو زمینوں سے ملاتا ہے قلم

زندہ جاوید ہو جاتے ہیں اس کے معرکے
حشر کے آثار قوموں میں اٹھاتا ہے قلم

کانپتے ہیں اس کی ہیبت سے سلاطینِ زمن
دبدبہ فرمانراواؤں پر بٹھاتا ہے قلم

حافظ و خیام و سعدی غالب و اقبال و میر
ماضئ مرحوم میں ان سے ملاتا ہے قلم

شہسواروں کے جلو میں ہفتمیں افلاک پر
سربکف اسلاف کے پرچم اڑاتا ہے قلم

کیسی کیسی منزلوں میں رہنما اس کے نقوش
کیسے کیسے معرکوں میں دندناتا ہے قلم

شاعری میں اس سے قائم ہے خمِ گیسو کی آب
نثر میں اعجاز کے تیور دکھاتا ہے قلم

قطع کرنی پڑتی ہیں فکر و نظر کی وادیاں
تب کہیں شورشؔ مرے قابو میں آتا ہے قلم

آغا شورشؔ کاشمیری

شائع کردہ از پسندیدہ غزلیں | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

محفل میں بار بار کسی پر نظر گئی ۔۔ آغا بسمل

محفل میں بار بار کسی پر نظر گئی
ہم نے بچائی لاکھ مگر پھر اُدھر گئی

ان کی نظر میں کوئی تو جادوضرور ہے
جس پر پڑی اُسی کے جگر تک اُتر گئی

اس بے وفا کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑے
حسرت بھری نِگاہ بڑا کام کر گئی

ان کے جمالِ رُخ پہ انہیں کا جمال تھا
وہ چل دیے تو رونقِ شام و سَحَر گئی

ان کو خبر کرو کہ ہے بسمل قریبِ مرگ
وہ آئیں گے ضرور جو ان تک خبر گئی

آغا بسمل

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

شہزاد احمد – عمر بھر کی تلخیاں دے کر وہ رخصت ہو گیا

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا

وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آگئی
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا

بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں
دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا

شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط
وہ اپنے نقشِ پا تو مٹا کر نہیں گیا

گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئی
لگتا ہے یوں کہ جیسے وہ آکر نہیں گیا

تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یاد
جب تک وہ پتیوں کو جدا کر نہیں گیا

رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا

ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگی
وہ خار وخس میں آگ لگا کر نہیں گیا

شہزاد یہ گلہ ہی رہا اس کی ذات سے
جاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا

شہزاد احمد

شائع کردہ از پسندیدہ غزلیں | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

شہزاد احمد – حال اس کا ترے چہرے پہ لکھا لگتا ہے

حال اس کا ترے چہرے پہ لکھا لگتا ہے
وہ جو چپ چاپ کھڑا ہے ترا کیا لگتا ہے

یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں
دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے

یوں تو ہر چیز سلامت ہے مری دنیا میں
اک تعلق ہے کہ جو ٹوٹا ہوا لگتا ہے

اے مرے جذبِ دروں مجھ میں کشش ہے اتنی
جو خطا ہوتا ہے وہ تیر بھی آ لگتا ہے

جانے میں کون سی پستی میں گرا ہوں شہزاد
اس قدر دور ہے سورج کہ دیا لگتا ہے۔

شائع کردہ از پسندیدہ غزلیں | تبصرہ کریں

جل بھی چکے پروانے، ہو بھی چکی رسوائی – شہزادؔ احمد

جل بھی چکے پروانے، ہو بھی چکی رسوائی
اب خاک اُڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی

تاروں کی ضیا دل میں اک آگ لگاتی ہے
آرام سے راتوں کو سوتے نہیں سودائی

راتوں کی اُداسی میں خاموش ہے دل میرا
بے حس ہیں تمنائیں، نیند آئی کہ موت آئی

اب دل کو کسی کروٹ آرام نہیں ملتا
اک عمر کا رونا ہے، دو دن کی شناسائی

اک شام وہ آئے تھے، اک رات فروزاں تھی
وہ شام نہیں لوٹی وہ رات نہیں آئی

شہزادؔ احمد

شائع کردہ از پسندیدہ غزلیں | تبصرہ کریں

یے) (‘ی’) سے شروع ہونے والے اشعار

یہ کیا قیامت ہے باغبانوں کے جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمھاری آنکھوں میں خار بن کر
ساغر صدیقی

یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں وہ جام اسی کا ہے
(شاد عظیم آبادی)

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
اقبال

یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام
یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے
اکبر الہ آبادیؒ

یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل

 گرمئِ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک

یاد ہیں غالب ! تُجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میں

زخم سے گرتا ، تو میں پلکوں سے چُنتا تھا نمک

یا ہم کو تو عادی نہ بنا تیرگیوں کا

یا اس طرح یکلخت اجا لے دیا نہ کر

یک قلم کاغذِ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت

نقشِ پا میں ہے تپِ گرمئ رفتار ہنوز

 يہ گرم جوشياں تری گو دل سے ہوں ولے

تاثیرِ نالہ ہائے شرر بار ہے غلط

 یہ بت جو دل میں بسائے ہیں ان کو دے توڑ

دنیا مطلب کی یارا اس کا پیچھا چھوڑ

 یہ بھی دیکھا ہے کہ جب آ جائے غیرت کا مقام

اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھا لیتے ہیں لوگ
قتیل شفائی

  یہ خرابات ہے جا خیر سے اپنے گھر کو

 منہ کی کِھلوائے نہ پھر تیز زبانی واعظ

 تیری ہی زُلفِ ناز کا اب تک اسیر ہُوں

یعنی کسی کے دام میں آیا نہیں ہنوز
جوش ملیح آبادی

 یہ بعد میں کُھلے گا کہ کس کس کا خُون ہوا

ہر اِک بیاں ختم، عدالت تمام شُد

شائع کردہ از بیت بازی | تبصرہ کریں